پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاستدان اور غیر سیاسی سوشل میڈیا بریگیڈ
پاکستان پیپلز پارٹی مدبر سیاستدانوں کی جماعت ہے جس میں پریکٹیکل سیاست اور اُور اُسکے خدوخال کے بارے میں سکھایا جاتا تھا - یہ پاکستان اور دنیا اسلام کی واحد سیاسی پارٹی ہے جس نے اپنے منشور میں پہلا جملہ ہی یہ درج کروایا کہ " اسلام ہمارا دین ہے " اب اگر اس ایک جملے کو لے کر چلا جائے تو ہماری زندگی ختم ہو جائے گی یہ ایک جملہ ختم نا ہوگا - خیر بات کرتے ہیں گزشتہ روز کے ایک اہم معاملے کی جو ایک نجی میڈیا چینل پر رونما ہوا حالانکہ اس نجی میڈیا چینل میں رونما ہونے والی بہت سی باتوں سے مجھے شدید اعتراض ہے مگر اسوقت ہم گزشتہ روز ہونے والے مخصوص واقعے کی بات کرتے ہیں - ایک پروگرام میں جو کورونا وائرس سے متعلق تھا میں اس نجی میڈیا چینل جسکا نام اے آر وائے نیوز ہے اس نے سندھ حکومت کا موقف لینے کیلئے ہمارے ہر دلعزیز بھائی اور صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کو لائن پر لیا اور پوچھنا چاہا تو سعید غنی طیش میں آگئے اور اُنہوں نے اے آر وائے نیوز کے اینکرز کو کہا کہ آپ لوگوں کو سندھ کے علاوہ کوئی کام نہیں یہ پلانٹ کیا گیا پروگرام ہے جس کے میرے پاس ثبوت موجود ہیں اور اُنہوں نے کہا آپ نے اپنے بیٹ رپوٹرز کو ایک میسج بھیجا ہے جس میں آپ لوگوں نے اُنہیں کہا ہے کہ "ایک پیکج بنائے اور بتائے کہ سندھ میں اُنکے علاقوں کے ضلعی اسپتالوں میں صحت کی کیا سہولیات ہیں اس پر مکمل رپورٹ بنا کر بھیجے اور لاکھوں روپے فنڈز جو سندھ حکومت نے ضلع اسپتالوں کیلئے مختص کیے ہے اُنکا خرچ سندھ کی بیروکریسی نے درست کیا یا نہیں اور یہ بھی بتائے کہ سندھ حکومت کے ماتحت کام کرنے والے اداروں کی تعداد کتنی ہے اور اُنکا عملہ سہولیات کی مد میں لاکھوں روپے لینے والا ان کا عملہ کیا کر رہا ہے ؟ اور یہ بتائیں کہ ان اسپتالوں کے لاکھوں ملازمین کسطرح عوام کی مدد کر رہے ہیں " اس میسج کا اسکرین شاٹ مندرجہ ذیل پوسٹ کر دیا گیا ہے - اب اگر اس اسکرین شاٹ کے مندرجات پر بات کی جائے تو مجھے تو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ اس میسج میں سندھ کے خلاف کیا سازش ہو گئی ہے حالانکہ اے آر وائے نیوز سے مختلف معاملات پر اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر مندرجہ ذیل میسج میں سازش سمجھ سے بالاتر ہے - اگر اس میسج کی تشریح بھی کریں تو اس میں وہ بات نظر نہیں آ رہی جسکو ہم سازش سے تشبیہ دیں اس میں غلط کیا ہے سندھ حکومت کو بدنام کرنے میں بیوروکریسی کا ہی ہاتھ اور بیوروکریٹس کتنی چوریاں کرتے ہے کیا ہم نہیں جانتے اگر اس میسج میں اے آر وائے نیوز یہ بات لکھتا کہ حکومت سندھ کیا کچھ کھا رہی ہے یا اُسکے منسٹر کتنی کرپشن کر رہے ہے تو بات سمجھ میں آتی کہ اے آر وائے نیوز غلط کام کر رہا ہے - سعید غنی سندھ حکومت کا بہترین فیس ہے اب اُنہیں کیا بات بُری لگی یہ سمجھ سے بالاتر ہے کوئی بھی نیوز چینل ہو وہ یہ سب اپنے رپورٹر کو کہے گا کہ آپ اپنے اضلاع میں پتا کریں کہ سندھ حکومت نے کیا کیا کام کیے ہے اب اگر سندھ حکومت نے اسپتالوں کے لیے فنڈ جاری کیا اور بیروکریسی نے اس فنڈ میں خوردبرد کیا تو ذمہ دار سندھ حکومت نہیں بلکہ بیوروکریسی ہے اور بیوروکریسی کی چوریاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے - سندھ کو تباہ کرنے میں سیاستدانوں کا کوئی کردار نہیں بلکہ یہی بیوروکریٹس ہیں جو 60 فیصد کمیشن لے کر حکومت کے پروجیکٹ کو تباہ و برباد کرتے ہیں - اس بات کا سب بڑا ثبوت کراچی واٹر بورڈ میں چھپا ہوا ہے جہاں پر ساٹھ فیصد کمیشن چل رہا ہے اور اگر اس بات پر کسی کو شک ہے تو میں اس کو ثبوت دینے کو تیار ہوں کہ کس طرح سندھ حکومت کا نام خراب کیا جا رہا ہے جبکہ سندھ میں ہونے والی کرپشن کے ذمہ دار 90 فیصد بیوروکریٹ ہیں - جو سندھ کے وسائل کو لوٹ کر بیرونی ممالک میں اپنے محل بناتے ہیں - یہی بیروکریسی ہے جو تمام تر کرپشن کی ذمہ دار ہے انکو بے نقاب کرنا ہوگا ورنہ بیوروکریٹس سندھ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا کر جاتے رہے گے اور الزام سندھ حکومت یا پیپلزپارٹی پر لگایا جائے گا - بیوروکریٹس کا احتساب کرنا ہوگا ورنہ ہمیں جعلی احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا - سندھ حکومت نے صحت کے شعبے میں بہترین کام کیا ہے بڑے اسپتالوں کو تو درست کیا ہے مگر بیسک ہیلتھ یونٹ کا پورے سندھ میں بیڑا غرق ہو گیا ہے جسکے پیچھے سندھ کی بیروکریسی ہے کیونکہ ضلعی لیول پر حکومت اور میڈیا کا دھیان کم ہی جاتا ہے اور بیروکریسی کروڑوں روپے کا فنڈ ہضم کر جاتی ہے - بارحال میرا خیال ہے کہ ہمیں باتوں کو سمجھنا چاہیے ناکہ میڈیا سے اُلجھتے پھریں - پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ وہ اپنی پارٹی کو بچانے کیلئے میدان میں آئے نا کہ میڈیا کو گالیاں دینے کیلئے وہ اپنی توانائیاں ضائع کریں - گزشتہ روز ہی ایک بہت بڑا کام ہوا ہے جس پر میں اُمید کر رہا تھا کہ ہماری پارٹی کا ردعمل آئےگا یا پھر ہماری سوشل میڈیا ٹیم جو کہ ضلع وائس کام کر رہی ہے وہ اس مسئلے کو سوشل میڈیا پر اٹھائیں گے مگر اس کے برعکس سوشل میڈیا کے لوگ اے آر وائی کو گالیاں دینے میں مصروف ہیں سندھ کی بات کرنے والوں سے میرا سوال ہے کہ مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ کریں اور مجھے یہ بتائیں کہ اے آر وائے نے سندھ پر حملہ کیا یا وفاقی حکومت کا وزیر سندھ پر حملہ آور ہوا ہے - اُردو ہماری قومی زبان ہے سوشل میڈیا پر اُردو میڈیا بول کر گالیاں دینا غلط ہے آپ لوگ پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا میں کام کر رہے ہے اختلاف کرنا آپکا حق ہے مگر پارلیمانی انداز گفتگو کے تناظر میں کیا کریں ناکہ دوسرے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ کی طرح غیر ضروری باتوں اور گالیوں سے اپنی بات کو منوانے کی کوشش کرتے رہیں - دراصل اصل مسئلہ اے آر وائے نیوز نہیں بلکہ اینٹی سندھ موومنٹ ہے جو ہمیں کمزور سے کمزور تر کرنا چاہتی ہے - یہ ہمارا فرض ہے کہ اس موومنٹ کو ایکسپوز کریں نہ کہ بیوروکریسی کی چوریوں کو چھپانے کے لیے اپنی پارٹی کا نام بدنام کریں - اب بہت سے لوگوں کو میری اس تحریر سے
اختلاف ہوگا وہ اختلاف کر سکتے ہیں مگر بات کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے -


Comments
Post a Comment